30 ستمبر 2012 - 20:30

شام کے وزیر خارجہ وليد المعلم نے شام ميں اخضر ابراہيمي سے مُلاقات میں امن مشن کی تقويت اور ان کے ساتھ تعاون کے راستوں کا جائزہ ليا ـ

ابنا: انہوں نے شام کے تازہ حالات پر روشني ڈالي اور کہا کہ ان کے مشن کي کاميابي کا دارومدار شام ميں سرگرم دہشت گرد تنظيموں کو تربيت، اسلحہ اور مالياتي امداد کي فراہمي بند کئے جانے پر ہے۔

دوسري طرف عراق کے وزير خارجہ نے شام کے بحران کے حل کے لئے عراق کي طرف سے دومرحلوں پر مشتمل پر ايک فارمولہ پيش کيا ہے۔

عراقي وزير خارجہ ہوشيار زيباري نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے ميں جن ملکوں نے جنيوا ميں شام کے سياسي عمل ميں اصلاحات اور تبديلي کے مسودے کو منظوري دي ہے وہ جمع ہوں اور اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے لئے اپني کوششيں بروئے کار لائيں۔

عراقي وزير خارجہ نے کہا کہ دوسرے مرحلے ميں شام کي حکومت اور اس کے مخالف گروہوں کے نمائندوں کو دعوت دي جائے کہ وہ ايک غير جانبدار ملک ميں مذاکرات کي ميز پر بيٹھيں اور شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے نمائندے اخضر ابراہيمي شام کے بحران کے حل کے لئے ان مذاکرات کا ايجنڈہ تيار کريں.

.......

/169